بند کریں
شاعری مضامینتقریبی احوال کراچی لٹریچر فیسٹیول کا احوال
کراچی لٹریچر فیسٹیول کا احوال
مبشر علی زیدی کا لکھا ہوا کراچی فیسٹیول اور مصطفی ارباب کی نظموں کا احول

نثری شاعری میری سمجھ میں نہیں آتی۔ اِس پر میرے کچھ دوست کہتے ہیں کہ میری سمجھ میں اور بھلا کیا آتا ہے؟ وہ بھی سچ ہے لیکن بیش تر نثری شاعری بالکل سمجھ میں نہیں آتی۔

صفورا گوٹھ سے سبزی منڈی تک
یونیورسٹی روڈ پر آتے ہوئے
دائیں ہاتھ کوئی بھی موڑ مڑکر
مجھ تک پہنچا جاسکتا ہے

اِس قسم کی شاعری میں کیسے سمجھوں؟ اور کیا سمجھوں؟
میں نثری شاعری سے بِدکتا رہا، یہاں تک کہ ایک دن اتفاقاً افضال احمد سید کی ایک نظم پڑھنے کو ملی۔

کاغذ مراکشیوں نے ایجاد کیا
حروف فونیشیوں نے
شاعری میں نے ایجاد کی

قبر کھودنے والے نے تندور ایجاد کیا
تندور پر قبضہ کرنے والوں نے روٹی کی پرچی بنائی
روٹی لینے والوں نے قطار ایجاد کی
اور مل کر گانا سیکھا

روٹی کی قطار میں جب چیونٹیاں بھی آکر کھڑی ہوگئیں
تو فاقہ ایجاد ہوا

پوری نظم افضال صاحب کے مجموعہ کلام ’’چھینی گئی تاریخ‘‘ میں درج ہے۔ کراچی لٹریچر فیسٹول میں ایک سیشن افضال صاحب کے ساتھ تھا، ایک اُن کی بیگم تنویر انجم کے ساتھ۔۔
افضال صاحب کی کلّیات ’’مٹی کی کان‘‘ کے نام سے چھپ چکی ہے۔ اُنھوں نے میری تقی میر کا تمام فارسی کلام اردو میں ترجمہ کیا ہے جو حال ہی میں اوکسفرڈ نے شائع کیا ہے۔ تنویر انجم کی شاعری کے چھ مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ افضال صاحب اور تنویر صاحبہ کے قیمتی دستخطوں والی کتابیں میری لائبریری میں موجود ہیں۔

میرے فیس بک فرینڈز میں بہت سے ادیب شاعر بھی ہیں۔ وہ اب خفا ہوں گے کہ میں جانے پہچانے لوگوں کا تعارف کرانے بیٹھ گیا ہوں۔ دراصل میرے ایسے دوست بھی ہیں جو کہانیاں پڑھتے ہیں نہ شاعری۔ یاد کریں، میں نے پہلی قسط کہاں سے شروع کی تھی؟ پانچ ٹی وی پروڈیوسرز کراچی لٹریچر فیسٹول کے چار شرکا کے نام نہیں بتاسکے تھے۔ اگر یہ چند قسطیں پڑھ کے کسی کو چار پانچ نام یاد رہ گئے تو سب کا بھلا ہوگا۔
افضال احمد سید اور تنویر انجم، دونوں کا لہجہ مختلف ہے لیکن مجھ جیسے سخن نافہموں کو بھی دونوں کی شاعری سمجھ آجاتی ہے۔ تنویر انجم نے اپنے سیشن میں نظم ’’انٹرویو‘‘ سنائی تھی۔ آپ پڑھ کے دیکھیں، جس کا انٹرویو ہے، کہیں وہ آپ کے آس پاس نہ ہو۔

کیسے ہو؟
یہاں کیمپ میں اپنا گھر یاد آتا ہے؟
ہاں، مگر اُس کی چھت گرگئی تھی

اپنے ساتھ کھیلنے والے یاد آتے ہوں گے؟
ہاں، مگر وہ سب مرچکے ہیں

کیا دل چاہتا ہے اپنے اسکول واپس جانے کو؟
ہاں، مگر وہ پورا جل گیا تھا

کیا اپنے باپ سے ملواؤ گے؟
ہاں، مگر اُس کی قبر میں بس اُس کا ہاتھ دفن ہے

کیا تمھاری ماں تمہارے ساتھ ہے؟
ہاں، رات کو خواب میں ساتھ ہوتی ہے

تم بڑے ہوکر کیا بننا چاہتے ہو؟
میں بڑا ہوں، بم بناسکتا ہوں

فیسٹول کے دوران میں سندھی اور اردو کے بہت پیارے شاعر مصطفیٰ ارباب سے ملاقات ہوئی۔ وہ ’’نئی نظم کا سفر‘‘ کے عنوان سے ہونے والے سیشن میں شریک تھے۔ دوسری نظموں کے علاوہ اُنھوں نے ایک نظم ’’دکھ اور سکھ‘‘ بھی سنائی لیکن اُس سے پہلے یہ بتایا کہ اُن کی اہلیہ ایک حادثے کے بعد سے چل نہیں سکتیں۔ اِتنے دن ہوگئے ہیں، میں اُس نظم کو بھلا نہیں پارہا۔

ہمارا مکان
اُس جگہ پر ہے
جہاں دُکھ اور سُکھ کی سرحد ہے
آدھا مکان
سُکھ میں ہے
آدھا مکان
دُکھ کے حصے میں آیا ہے
ہم
ہنستے ہنستے
دُکھ کے حصے میں پہنچ جاتے ہیں
اور
ہماری آنکھو ں سے
آنسو بہنے لگتے ہیں
ہمارا کمرا
دُکھ اور سُکھ میں تقسیم ہوگیا ہے
ہمارا بستر بھی
دو حصوں میں بٹ گیا ہے
وہ
مجھے دُکھ والے حصے میں
کبھی لیٹنے نہیں دیتی
وہاں ہمیشہ
وہ خود لیٹتی ہے
ہمارے مکان میں
دُکھ
سُکھ کے ساتھ رہتا ہے

(1) ووٹ وصول ہوئے

: مضامین سےمتعلقہ شعراء