بند کریں
شاعری جاوید اختر

دکھ کے جنگل میں پھرتے ہیں کب سے مارے مارے لوگ

-

dukh-k-jangal-main-phirte-hain-kab-se-mare-mare-loog


(295) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان