بند کریں
شاعری خواجہ میر دردمعلوم نہیں آنکھیں یہ کیوں پھوٹ بہی ہیں

خواجہ میر درد

khwaja mir dard

(269) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان