بند کریں
شاعری رخشندہ نوید

یہ کیسا عشق میں ڈوبا ہوا کردار ہے صاحب

-

yeh kaisa ishq main doba hua kirdar hai sahab


(102) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان