|
حضورِ یار میں آنکھوں نے لب کشائی کی
حضورِ یار میں آنکھوں نے لب کشائی کی
ہزار اشک بہے اور شب جدائی کی
تمہارے تیرِ نظر کی ادائیں کیا کہنا
دِکھا دِکھا کے مرے زخم کی سلائی کی
جہان روک رہا ہے محبت سے
یہ جانتا تھا مگر اس نے بے وفائی کی
کبھی کا روٹھ گیا ہوتا اس جہان سے میں
اگر ذرا سی بھی ہوتی سمجھ لڑائی کی
یہ آسمان بھی دلہن بنا ہوا تھا اس دن
جب ایک ہتھیلی مرے خون نے حنائی کی
میں رہ رہا ہوں جفاؤں کے دور میں شاکر
سزا ملی یہ مجھے میں نے جو بھلائی کی |