|
مرض عشق میں ہو رہا ہوں رسوا
مرض عشق میں ہو رہا ہوں رسوا
صرف تیرے پاس ہے میری دوا
غیروں کے ہاتھوں جتنا بھی پی لوں
نہیں ہے میرے مقدر میں شفا
طلب نہ رہے کچھ بھی پینے کی
اپنا جام ایسا اب مجھ کو پلا
بھاگتا ہے دور کیوں مجھ سے تو
پاس آاور میرے گلے لگ جا
آج مے خانے میں ایسا جشن ہو
سر عام تو مجھ کو لے اپنا
|