|
میں نے اپنی سمت کو اپنے گاوئں کی جانب موڑ دیا ہے۔
سیمنٹ اور لوہے کا جنگل اُگ آئے تو
دیکھا ہے کہ
کھُلے کھُلے کشادہ رستے
بھول کے رستہ کُھو جاتے ہیں تنگ گلیوں میں
دھرتی اپنی بانہیں کھوُلے رستہ تکتی رہ جاتی ہے
لیکن رستے بھٹک کے رستہ
دیواروں کے جنگل میں جب گُم ہو جائیں
تو رُک رُک کر بہتی رُکتی،آڑی ترچھی اک مریل سی
گندے پانی کی نالی سینے پہ سجائے
اپنے کُشادہ ماضی کے بس بین سُناتے رہ جاتے ہیں
میں بھی اک ایسا رستہ ہوں جو اس شہر میں آن پھنسا ہے
لیکن یارو اس سے پہلے کہ مُجھ پر بھی سیمنٹ اور لوہے کا جنگل اُگنے پائے
میں نے اپنی سمت کو اپنے گاوئں کی جانب موڑ دیا ہے۔ |