|
تیری نظر کا ا شارا بدل گیا ہو گا
تیری نظر کا ا شارا بدل گیا ہو گا
میرے نصیب کا تارا بدل گیا ہو گا
نظر جو پھیر لی مجھ سے زمانے والوں نے
ضرور مجھ سے وہ پیارا بدل گیا ہو گا
اُ داس رہنے لگاہے جوپھرسے دل میرا
وہ شخص مجھ سے دوبارا بدل گیا ہو گا
بدل گئے ہو جو تم تو بدل گیا ہے جہاں
ندی کے ساتھ کنارا بدل گیا ہو گا
خوشی سے تو نہیں بدلا ہے آپ سے ضیغم
غمِ حیات کا مارا بدل گیا ہو گا |