|
کوئی تو ہوتا مر ا بھی ساتھی کوئی سنتا فسانہ دل کا
کوئی تو ہوتا مر ا بھی ساتھی کوئی سنتا فسانہ دل کا
کوئی تو کہتا مجھے بھی اپنا کوئی تو ہوتا دیوانہ دل کا
وہ کون ہے جو وفا کرے گا کہے گا دل سے مجھے بھی اپنا
کسی کو جو غم مرا نہیں ہے تو پھر کسے غم سُنانا دل کا
گو لاکھ سمجھایا ہم نے دل کو وہ شخص تیر ا نہ ہے نہ ہوگا
غضب ہے باوصف اس کے یاروں وہ ٹوٹ کر اُس پہ آنا دل کا
کبھی جو محفل میں بیٹھے تھے ہم میں کیا کہوں کیا شرارتیں تھی
کبھی نگاہیں مِلانا اُن سے کبھی نگاہیں چُرانا دل کا
کبھی وہ رونا ، کبھی وہ ہنسنا ، کبھی تڑپنا ، کبھی مچلنا
کہاں گئی پیار کی وہ باتیں ، کہاں گیا وہ زمانا دل کا
کبھی وہ آئیں گے اس طرف کو کبھی تو اپنا کہیں گے مجھ کو
کبھی کہیں گے وہ مجھ سے ضیغم ذرا کہو تو فسانا دل کا |