|
غیر پر اُن کی عنایت ہو گئی
غیر پر اُن کی عنایت ہو گئی
زندگی مجھ پر قیامت ہو گئی
آج اُس نے ہم سے آنکھیں پھیر لیں
بے قراری اپنی قسمت ہو گئی
کیا کسی کے غم کا دل پر ہے اثر
کیا ہوا کیسے یہ حالت ہو گئی
کیوں گرفتہ دل پھرا کرتا ہوں میں
کیا مجھے دنیا سے نفرت ہو گئی
سوچتا ہوں اُن سے یہ کیسے کہوں
کہ مجھے تم سے محبت ہو گئی
اُن کی چشمانِ غزالی دیکھ کر
اب غزل کہنا ضرورت ہو گئی
دل تھا پہلے ہی تیرا اے صنم
جاں بھی اب تیری امانت ہو گئی
مجھ سے وہ بے زار سے رہنے لگے
غیر کی ممکن ہے چاہت ہوگئی
اُن سے کیا مہرو، وفا کی ہو اُمید
بے وفائی جن کی عادت ہو گئی
تم مجھے ٹھکراوٴ گے کہتا تھا وہ
بات ضیغم کی حقیقت ہو گئی |