|
آغازِ سحَر
ہر چند فُغاں بزم کا منشور نہیں ہے
چپ چاپ تڑپنا مجھے منظور نہیں ہے
اُس دل کا دھڑکنا ہے فقط سانس کا چلنا
ایماں کی حرارت سے جو معمور نہیں ہے
باطل کو پرکھنے کا جسے ڈھنگ نہ آیا
اُس آنکھ کی بینائی میں کچھ نور نہیں ہے
بے شک ہو نِکَو نام، جری، صاحبِ ذیشان
رسوا جو کرے دیں کو وہ غیّور نہیں ہے
اے شوقِ پزیرائی حوادث سے لپٹ جا
محتاط روی عشق کا دستور نہیں ہے
جانبازئی جانباز کو اجناس میں مت تول
ہے رب کی رضا پیشِ نظر حور نہیں ہے
افغان و فلسطین بتاتے ہیں مجاہد
مستور ہو، محصور ہو، معذور نہیں ہے
اترے گا نشہ اور پیے جائے گا جتنا
مظلوم کا خوں دخترِ انگور نہیں ہے
گردش میں گرفتار ہیں مغرب کے ستارے
اٹھ جاگ! کہ آغازِ سحَر دور نہیں ہے |