|
ننّھا دہشت گرد
ابھی ہوں خام بدن میں بنا نہیں اک مرد
مجھے بلئیر بتاتا ہے میں ہوں دہشت گرد
کٹا ہے داہنا پاؤں تو باہنا بازو
گرا تھا ڈیزی کٹر جب بہت ہوا تھا درد
ہوئے ہیں قتل مرے بھائی، ماں، بہن، بابا
نہ گرم کپڑے نہ چھت سر پہ، ہے ہوا بھی سرد
بُریدہ سر مرے ماموں کا جب بنا فٹ بال
شفق کا رنگ سنہرا بھی ہو گیا تھا زرد
ابو غریب میں جب فاطمہ ہوئی پامال
مرے چمن کا بھی روندا گیا تھا تازہ ورد
ضمیرِ عشقِ مسلماں ہے آگہی سے تہی
ہیں قائدین بھی طاغوت کی بساط کے نرد
وہ لے چلے ہیں مجھے گوانتانموبے میں
سنا ہے رہتا ہے پنجرے میں اب وہاں ہر فرد
مٹا سکیں گے نہ وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا الله
ہزار مکر و دجل کی ہو آمد و آورد |