|
پیامِ آگہی ۔ تفکّرات
بدل دیئے ہیں تغافل نے عشق کے آداب
غلط درست، نظر سست اور خوں برفاب
ردائے عصمتِ دختر اتار دے جو تری
بتا! لغت میں ترقّی کی دوڑ ہے کہ عذاب؟
مجھے نہیں ہیں شکایات نونہالوں سے
گُہُر کہاں سے بنیں، جب ہوئی صدف نایاب
اسیرِسیلِ تعیّش، یہ نوجوان ہیں کیا؟
شراب، خواب، رباب و شباب میں غرقاب
حدیثِ مشرق و مغرب ہو یا شمال و جنوب
جہان بھر میں مسلمان ہی ہیں زیرِ عِتاب
بچھایا ایسا کلیسا نے دامِ پُر تفریق
کہ شاہباز کا نخچیر ہو گیا ہے عقاب
پھنسے ہیں اس کے دجَل میں گدا و شاہ سبھی
یہ کیسا ’عالمی تنظیمِ نو‘ کا ہے گِرداب
بڑھی ہی جاتی ہے طولانیٴ شبِ دیجور
کہاں ہے نورِ تجلّی؟ کہاں گیا مَہتاب؟ |