|
تجلّیات
کلیم بے یدِ بیضا ہوئے ترے ورنہ
وہی ہے نورِ تجلّی وہی ہے آب و تاب
وفورِ حبس سے مایوس ہو نہ اے ہمدم
ہے رعد# و برق کا موسم، امڈ رہا ہے سَحاب
ڈرائے کیا کوئی صرصر، مجھے ہے علم کہ پھر
چلے گی بادِ بہاری، کھلیں گے تازہ گلاب
شکن سے جن کی جبیں کی لرز اٹھے طاغوت
وہ ہوں گے صاحب و اربابِ منبر و محراب
قرارِ بازوئے مسلم کو انجماد نہ جان
رہی ہے ضرب پہ موقوف فطرتِ سیماب
لہو شہید کا طوفاں اٹھائے گا ایسا
جو تیرتے ہیں سمندر پہ ہوں گے زیرِ آب
’پیامِ آگہی‘ اک روز رنگ لائے گا
اتار دے گا درندوں کے آدمی سے نقاب
ہے ابتدائیہ ’ناموسِ مصطفٰے‘ کی مہم
کُھلیں گے اور بھی یورپ پہ حیرتوں کے باب
مرے جنون کے آگے زمین چیز ہے کیا
نجوم و شمس و قمر بھی نہ لا سکیں گے تاب |