|
طریقِ زندگی
خرد کی آرزو ہو جا، نظر کی آبرو ہو جا
بہ چاکِ دامنِ انسانیت تارِ رفو ہو جا
مثالِ موجِ طوفاں باعثِ خوفِ عدو ہو جا
ہجومِ دوستاں میں گنگناتی آبجو ہو جا
گرفتارِ گُلو ہو کر نہ صَہبائے سَبو ہو جا
نئی دنیائیں کر پیدا، جہانِ رنگ و بو ہو جا
تڑپ کر جان دے کر زندگی کے روبرو ہو جا
لہو ہو، پھر نُمو ہو، پھر لہو ہو، پھر نُمو ہو جا
قتیلِ بے بسی یوں مبتلائے یاس و غم مت ہو
بدل جائیں گی تقدیریں شہیدِ جستجو ہو جا
صبا کے دوش پر پہنچے گی پھولوں تک نَوا بلبل
تو اپنی داستانِ غم سنا کر سرخرو ہو جا
تماشا کِرمکِ ناداں نہ بن اربابِ محفل میں
طوافِ شمعِ تاباں چھوڑ کر خود شمع خو ہو جا
نہ فرعونی، نہ ہامانی، نہ شاہانی، نہ خاقانی
اگر کچھ مرتبہ چاہے، صدائے حقّ و ہُو ہو جا
اسیرِ خود پرستی عشق کی منزل نہیں پاتے
نکل ’میں‘ کے حصارِ پر فسوں سے ’تُو ہی تُو‘ ہو جا
گلوں کو انتظارِ رعد و صرصر نامناسب ہے
جہاں ہو قطرئہ شبنم میسر، باوضو ہو جا
|