|
نظم
گھنے اندھیروں کے جنگلوں میں چراغ لے کر
میں خوشبو وئں سے اٹی فضا کو ڈھونڈنے سفر پہ نکلا
میں اُن خداؤں کے سامنے لب کشا ہوا ہوں
کہ جن کی ہیبت مثال بن کر کہیں زمانوں پہ پھیلتی ہے
امانتاً جب کسی نے میرے سپرد کی آنسو وئں کی دولت
میں جان کر بھی امانتوں میں خیانتوں کے عمل سے گزرا
میں جب بہاتا ہوں اشک اپنے
تو زخم اشکوں سے مولتے ہیں
زبان بخشی ہے بے زبان خواہشوں کو میں نے
حسین خوابوں کے بدلے آنکھوں کو بیچتا ہوں
میں اپنے دل میں محبتوں کو پناہ دینے کے جرم کا مرتکب ہوا ہوں
میں چوٹ کھانے پہ چیختا ہوں
میں آئینہ سا بنا کے چہروں کو کھولتا ہوں
ہزار مشکل کے باوصف سچ بولتا ہوں
بہت سے موقعوں پہ جھوٹ کو میں نے رد کیا ہے
میں ایک شاعر، میں ایک قلندر
ہوس پرستوں نے مجھ پہ الزام یہ دھر اہے
میں ایک دستک پہ ذات کے سب دروں، دریچوں کو
کھولتا ہوں
میں گھونگی بستی کا فرد ہو کر بھی بولتا ہوں
عجیب ہوں میں |