|
بہت مشکل میں بھی آسانیوں کے ساتھ رہتے ہیں
بہت مشکل میں بھی آسانیوں کے ساتھ رہتے ہیں
ہم ایسے لوگ تو بس خواہشوں کے ساتھ رہتے ہیں
کسی کا نام آتے ہی چھلک جاتی ہیں آنکھیں کیون
یہ کیسے دکھ ہیں جو کہ آنسوؤں کے ساتھ رہتے ہیں
سنا ہے اجنبی سایہ تمہارے ساتھ رہتا ہے
تو کیا ہے ہم بھی تو پرچھائیوں کے ساتھ رہتے ہیں
خزان آلود موسم میں کبھی زندہ نہیں رہے
وہ بچے جو ہمیشہ تتلیوں کے ساتھ رہتے ہیں
عداوت قرب کے موسم مے پروان چڑھتی ہے
سو ہم پتھر ہمیشہ آئینوں کے ساتھ رہتے ہیں
ہمیں اک ساتھ رہنا ہے زمینوں اور فضاؤں میں
سمندر جس طرح سے بادلوں کے ساتھ رہتے ہیں |