|
حد سے زیادہ مجھے بھاتا تھا وہ
حد سے زیادہ مجھے بھاتا تھا وہ
آنکھیں مِلا کے بات بتاتا تھا وہ
وصالِ یار جب بھی نصیب ہوتا
آنچل دبا کے شرماتا تھا وہ
ہر اِک وعدہ ہر اِک قسم
مِثلِ فرائض نبھاتا تھا وہ
عجب کیفیت تھی اُس قرب میں
ہر شے میں نظر آتا تھا وہ
جس رستے سے گزرتے ہم کبھی
دور تلک نظریں بچھاتا تھا وہ
اب تو ہم بھی یاد نہ کریں گے
کیوں اتنا ہمیں تڑپاتا تھا وہ
وقت گزرتے خبر نہ ہوتی
جب پاس اپنے بٹھاتا تھا وہ
اب کِسے سُنائیں حالِ دل
ہر غزل کا مفہوم سمجھاتا تھا وہ
ہچکیاں بندھ جاتیں نہ بولتا جب
کِتنے پیار سے تب ڈھارس بندھاتا تھا وہ
وہ آواز نہ سُن سکیں گے زندگی بھر
جب پیار سے جُگنو بُلاتا تھا وہ |