|
بھول گئے کيابچپن ميں نيندجب نہيں آتی تھی
بھول گئے کيابچپن ميں نيندجب نہيں آتی تھی
وہ ماں ہی تھی جولوریوں سے اکثر ہم کوسلاتی تھی
ہوتے جب بیمارتوہم سررکھ کراُن گودميں خو د
سوجاتے آرام سے وہ رات گئے تک جاگتی تھی
ہوجاتی ناراض اگروہ ہم سے کسی بات پر تو
ڈاھنٹ ڈھپٹ کر خودہی پھر گلے سے بھی لگاتی تھی
یوں بے جا غُصہ کرنہ تو اُن کی عادت ہی نہ تھا
اکثر وہ ہر بات ہم کو پیار ہی سے سمجھاتی تھی
آج تک سانسوں ميں خوشبو ہے لذت اُس دودھ کی جو
خود بھوکا رہکر بھی ہم کو وہ سینے سے پلاتی تھی
کیسے ہم بھول سکتے ہیں اُن میھٹے میھٹے کھانوں کو
جو پیارے پیارے ہاتھوں سے تُوماں ہم کوکھلاتی تھی
آج بھی جب یادکرتے ہیں توماننا پڑتاہے بیشک
ہم بھی کرتے تھے لیکن بے لوص محبت ماں کی تھی |