|
دل کی زمیں پہ اِک رستہ فریاد کا ہے
دل کی زمیں پہ اِک رستہ فریاد کا ہے
اپنی ذات کا قصہ صدیوں بعد کا ہے
اُمید جگی ہے صحرا کو پھر جینے کی
دھوپ کی آنکھ میں کاجل میری یاد کاہے
اِک لمحہ کیوں بیت رہا ہے صدیوں میں
سر پہ وقت کا آنچل کس معیاد کاہے
کاش کہ موسم پھر سے میرے ساتھ آئے
میرے ظرف میں اِک جذبہ ایجاد کا ہے
بھیگ رہی ہیں پلکیں درد کی بارش میں
ٹوٹ گیا جو بندھن وہ ا جداد کا ہے |