|
نعت مبارک
بخشش کا خود یقین دلا بھی گیا نبی
اُمت کو مشکلوں سے بچا بھی گیا نبی
ہم کیوں ہیں منزلوں کے سفر کی تلاش میں
دنیا کو راستے تو دیکھا بھی گیا نبی
تاریکیوں میں شمیں جلا بھی گیا نبی
اور رات کو سویرا بنا بھی گیا نبی
وہ آئینہ فتح، محبت کانام ہے
بت سارے کافروں کے گرا بھی گیا نبی
آزاد سب ہیں باعث الفت حضور کی
سب قید پنچھیوں کو اڑا بھی گیا نبی
اک چاندنی سی سارے جہاں میں ہی عام ہے
آنکھوں میں روشنی کو چھپا بھی گیا نبی
میں راز صبح وشام محمد کا نام لوں
دیدار مجھ کو کیسے کرا بھی گیا نبی |