|
اس کی قربت اثر کو دیکھ لیا
اس کی قربت اثر کو دیکھ لیا
ہم نے اسکے نگر کو دیکھ لیا
ہم نے کل رات اسکے مقتل میں
اپنے دل کو ، جگر کو دیکھ لیا
کیا تھا اسکا خلوص، کیا رحمت
ہم نے اسکے بھی در کو دیکھ لیا
لب پہ آئی ہوئی ہنسی کیا ہوئی ؟
میرے زخم جگر کو دیکھ لیا
آنکھ کھلتے ہی بھیگ جاتی ہے
ہم نے کیسی سحر کو دیکھ لیا
حالت دل نہ پوچھ اب ہم سے
اس کی بدلی نظر کو دیکھ لیا
کیوں کٹیں چین سے یہ دن اپنے
پھر سے اس کی ڈگر کو دیکھ لیا
کیا فرشتوں سے دوستی، کیا خلوص
ہم نے بندے بشر کو دیکھ لیا
ہم نے دل کی گلی کے آخر میں
آج کیسی نظر کو دیکھ لیا
دل ٹھہرتا نہیں ہے پہلو میں
جانے کیا اس نگر میں دیکھ لیا |