|
محبت
محبت لفظوں کی محتاج ہوتی ہے
جو نہ آئے سمجھ میں ایسا سوال ہوتی ہے
محبت کبھی بھی پوچھ کر نہیں ہوتی
کوئی سوچ کہ کر سکتا تو کیا بات ہوتی
بدلتی ہے راہیں پہنچاتی ہے کہاں سے کہاں تک
اندھیرے میں جو چمکے ایسا ہلال ہوئی
محبت جو کھل جائے اپنے جوبن کے ساتھ
سارے چمن کو مہکائے ایسا گلاب ہوتی
محبت میں خوشی دو پل کا ہے ساتھ
درد وغم سے بھری یہ کتاب ہوتی
محبت ہے کیا کوئی یہ تو بتا دے
جو نہ حل ہو سکے ایسا سوال ہوتی |