|
کئی بار کہا اس سے
کئی بار کہا اس سے
میری عادتیں نہ خراب کر
جب عادتیں خراب ہو جائیں تو
بدلا نہیں کرتی
یہ زندگی تو میں نے تنہا گزاری ہے
پھر کس لیے تیرے ساتھ کی خوشگمانی ہے
جذبات کی رو میں بہہ کر
کبھی یہ نہ کہہ دوں تم سے
کہ جان اک گزارش ہے
تمہارے ساتھ کی خواہش ہے
مگر
ہر خواہش پوری نہیں ہوتی
کیوں کہ
خواہش تو بے شمار ہوتی ہیں
محبتیں تو بس شرمسار ہوتی ہیں
ہم اپنے اپنے رشتوں کے محور میں
گھومتے ہیں
پھر کیوں اپنے لیے
پیار کے نام کے
کانٹے چنتے ہیں؟
کیوں زندگی میں لوگ آٹے ہیں؟
کیوں ہم انہیں بے پناہ چاہتے ہیں؟
کسی کے آنے سے
کسی کے جانے سے
زندگی رکتی نہیں
لیکن
ٹھیک سے بھی چلتی نہیں
عادت پڑ جائے تو
مشکل ہو جاتی ہے
یہ موت نہیں
جو سہل ہو جاتی ہے
کئی بارکہا اس سے
میری عادتیں نہ خراب کر …… |