|
یہ عشق و محبت کچھ بھی نہیں
یہ عشق و محبت کچھ بھی نہیں
سب روگ ہے دل و جان کا
کسی نے پالیا کسی نے کھو دیا
ازل سے ہے فیصلہ آسماں کا
ہم سفر کچھ پل ساتھ چلتے رہے
پھر راستے میں بھٹک گئے
کوئی مل گیا کوئی بچھڑ گیا
یہ نام ہے بس امتحان کا
یہ غزل شعرو شاعری کچھ بھی نہیں
اگر تو سمجھ سکے تو ………
اسے غور سے پڑھ‘ ذرا تو بھی
یہ معاملہ ہے الفاظ و بیاں کا
یہ سوچ کر خوش ہو جا
اب منزل دور نہیں رہی
اسے انتظار ہے آج بھی
بس تیرے لبوں کی ہاں کا
میری زندگی بند کتاب ہے
اسے کھول کر مت پڑھ
اک شعر میں نے لکھ دیا
اپنی دکھ بھری داستان کا
یہ دوستی اجاڑ دے گی تجھے
مت چل اس کٹھن راہ پر
وہ اگر کہے بھی تو مت کرنا
کبھی اعتبار اس کی ہاں کا |