|
اک لڑکی بھولی بھالی تھی‘ جو تیرے عشق میں پاگل تھی
اک لڑکی بھولی بھالی تھی‘ جو تیرے عشق میں پاگل تھی
تیکھے نینوں والی سی‘ آنکھیں سونی بن کا جل تھی
تیرے خیالوں سے باتیں کرتی‘ تیرے دیدار کی پیاسی تھی
تیرے لیے سب کھیل تھا‘ وہ پگلی تو پیار میں گھائل تھی
تیری جدائی کا سن کر‘ آنکھوں اشکوں سے بھرلاتی تھی
ارے تو توسیانا تھا لیکن وہ لڑکی تو جاہل تھی
ساری دنیا دیکھی‘ جہاں دیکھا ایسا پیار کہیں نہ دیکھا
تو پیاسا اجڑا صحرا‘ وہ تو ہر پل برستا بادل تھی
سچ کہوں ایک بات میں‘ تو ٹھہرا آوارہ مزاج لڑکا
وہ معصوم گلاب سی پنکھڑی‘ تیرے کہاں قابل تھی
اپنی ساری خوشیاں واری تجھ پر‘ تو پھر بھی نہ بدلا
کوئی کیا جانے بھلا؟وہ خود اپنی خوشیوں کی قاتل تھی
اب بیٹھ کر آنسو بہا‘ کون چاہے گا تجھے اس کے جتنا
ہر نگر یادیں ہیں اس کی‘ مگر وہ تو نظروں سے اوجھل تھی
میری عادتیں نہ خراب کر …… |