|
جو میری روح کی پوشا ک بن کے رہتا ہے
جو میری روح کی پوشا ک بن کے رہتا ہے
وہ آسما ں ہے مگر خاک بن کے رہتا ہے
بہت سکون سے جیتا ہوں اس کے سائے میں
مری زمیں پہ وہ افلاک بن کے رہتا ہے
اُسی دیے پہ مقدر غر و ر کرتا ہے
ہوا کی زد میں جو بے باک بن کے رہتا ہے
بچھڑ کے ُاس سے میں اندر سے ٹوٹ جاؤں گا
وہ میرے ذہن میں ادراک بن کے رہتا ہے
کسی کی یاد دلاسے تو اس کو دیتی ہے
مگر یہ دل ہے کہ سفّاک بن کے رہتا ہے |