|
چاہتوں کو بھُلا نہیں دیتے
چاہتوں کو بھُلا نہیں دیتے
یہ خزانے لُٹا نہیں دیتے
اُس سے کہنا کہ ہجر کی رت میں
ہر کسی کو بھُلا نہیں دیتے
جن کو صدیوں کے بعد ڈھونڈا ہو
ان کو پل میں گنوا نہیں دیتے
اپنی رائے کو معتبر سمجھو
مفت میں مشورہ نہیں دیتے
اپنے جیسوں سے لو لگایا کر
اپنے جیسے دغا نہیں دیتے
کس لیے بد گمان ر ہتے ہو؟
کیوں پلٹ کر صدا نہیں دیتے؟
خود سے سانسیں نکھارنا سیکھو
لوگ تو حوصلہ نہیں دیتے
جس سے سورج بھی پردہ کرتا ہے
لوگ اس کو رِدا نہیں دیتے
میں بھی خود میں بھٹکتا ہوں فاخر
تُم بھی اپنا پتہ نہیں دیتے |