|
میری عا دتییں نا خراب کر۔۔۔۔۔۔۔۔۱
میری عا دتییں نا خراب کر۔۔۔۔۔۔۔۔۱
کئی بار کہا ا ُس سے
میری عادتیں نا خراب کر
عادتیں خراب ہو جایں تو
بدلا نہیں کر تیں
یے زندگی تو میں نے تنہا گزارنی ہے
پھر کس لیے تیرے ساتھ کی خوشگمانی ہے
جزبات کی رو میں بہ کرکبھی یے نا کہ د وں تم سے
کے جان اک گزا رش ہے
تمھارے ساتھ کی خوا ہش ہے
مگر
ہر خواہش پوری نہیں ہوتی
کیوں کے خواہشات تو بے شمار ہوتی ہیں
محبتیں تو بس شرمسار ہوتیں ہیں
ہم اپنے اپنے رشتوں کے محور میں
گھومتے ہیں
پھر کیوں اپنے لئے
پیار کے نام کے
کانٹے چنتے ہیں ؟
کیوں زندگی میں لوگ آتے ہیں؟
کیوں ہم اُنھیں بے پناہ چاہتے ہیں؟
کسی کے آنے سے
کسی کے جانے سے
زندگی رکتی نہیں
لیکن
ٹیھک سے بھی چلتی نہیں
عادت پڑجاے تو
مشکل ہو جاتی ہے
یے موت نہیں
جو سہل ہو جاتی ہے
کی بار کہا اس سے
میری عادتیں نا خراب کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |