|
نہ تو چہرہ کوئی جکڑ سکا،نہ ہی لہجہ دل میں اتر سکا
نہ تو چہرہ کوئی جکڑ سکا،نہ ہی لہجہ دل میں اتر سکا
جو نگاہ اٹھی تھی سرسری وہ نگاہ دل سے گزر گئی
مجھے آدمیت سے انس تھا مجھے دوستی سے بھی پیار تھا
سو میں زندہ رہنے کے شوق میں کئی بار جاں سے گزر گئی
میری چاہتوں کی ردا تھی جو جسے وسوسوں نے جلا دیا
وہ ختم نہیں وہ امر ہوئی ہاں جو راکھ بن کے بکھر گئی
میرے دل کو کیا تیرا دل ملے ذرا دیکھ سوچ کے سلسلے
کہ میں خوف و غم سے صنم ہوئی تو تجھے لگا میں سنور گئی
وہ جو توڑ بیٹھی تھی پائلیں وہ جو بھاگ نکلی تھی تھاپ سے
یہی آہٹیں تھیں تلاش میں وہ جدھر گئی وہ جدھر گئی
وہ جو ایک پگلا سا دل میرا ،بس اسی پہ ہی میرا حق رہا
اسے توڑتے اسے جوڑتے میری عمر ساری گزر گئی
ہاں وہ قصہ میں نے بھی ہے سنا کوئی شخص تھا بھلے نام کا
کہ جو تیرگی میں تھا نور سا جسے پا کے دنیا نکھر گئی |