|
جا تجھے چھوڑ دیا ہے میں نے
جا تجھے چھوڑ دیا ہے میں نے
ہاں تجھے بھول چکی ہوں میں بھی
اب تو بس یہ ہے کوئی مانوس سی آہٹ پاکر
دل میرے سینے میں بے بات مچل اٹھتا ہے
کان کچھ قہقہے کچھ شور سنا کرتے ہیں
ذہن ماضی کے ہی کھنڈر میں پھرا کرتا ہے
ہونٹ ہنستے ہیں تو اس دل سے دھواں اٹھتا ہے
خواب آنکھوں میں پریشان پھرا کرتا ہے
یہ تو سب ہے مگر اک بات میری یاد رہے
میں نے ہر یاد کو اس دل سے مٹا ڈالا ہے
میں نے ہر نقش کو پتوں سے چھپا ڈالا ہے
ہاں یہی سچ ہے اِسے غور سے سن لے تو بھی
جا تجھے چھوڑ دیا ہے میں نے
ہاں تجھے بھول چکی ہوں میں بھی |