|
آہٹ
یہ کیسی آہٹ ہے۔۔۔؟
کس نے دی دستک۔۔۔؟
کون ہے باب پر
پر جانے کیوں ایسا لگا۔۔
جیسے
” خزاں میں سوکھے پتوں کا گرنا
بہار کے آمد کی دستک دیتا ہے“
کیا ویسے ہی۔۔۔۔
مرے فگارِبدن کو
مرہم مل جائے گا
پر
کون ہے ایسا مسیحا۔۔۔۔
کون ہے ایسا طبیب۔۔
کون ہے ایسا رفیق۔۔۔
جں نے۔۔۔۔
آہٹ کی صورت میں
مرے باب پہ دستک دی
پر
یہ کیسی آہٹ ہے۔۔۔؟
کہ
کوئی نظر کیوں نہیںآ تا
یہ کیسا احساس ہے؟
یہ کیسی شے ہے؟
اس کا کوئی سایہ کیوں نہیں ہے
کہیں یہ میرا پاگل پن تو نہیں۔۔۔
کہیں میں بوکھلا تو نہیں گیا۔۔۔۔
کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہا۔۔۔
” ہاں!“
اٹھو جی! نیند سے کیف صاحب
” یہ تو صرف خواب ہے“
کوئی ایسی آہٹ نہیں ہوئی۔۔۔
باب پہ کوئی دستک نہیں ہوئی۔۔۔
یہ خزاں کا موسم جانے والا نہیں ہے
ہمیں پیسنا ہوگا۔۔۔
اس ظلم کی چکی میں
اس بھوک وافلاس کی چکی میں
اس مہنگالی کی چکی میں
یہ ظلم کا چکر یو نہی چلتا رہے گا
ہمیں موت کے کنوئیں میں انڈیلتا رہے گا
پر کب تلک۔۔۔
ہماری زبان بنیادی ضرورتوں سے لہولہان
” روٹی کپڑا اورمکان“
اے مرے مالک!
اے مرے مولا!
کب تلک ہوگا ہمارے ساتھ ایسا۔۔۔؟
سنو! کیف صاحب
” نہ تمھارے حاکم فرض شناش
نہ تم رعایہ حق شناش“
کس گمان میں بیٹھے ہو۔۔۔؟
کس آہٹ کا انتظار ہے۔۔؟
کہ
” کوئی آنے والا ہے“
اٹھو، جاگو اور دیکھو!
اب تلک کچھ نہیں بدلا! |