|
نہ جانے.......
نہ جانے........
آج وہ چاند کہاں کھو گیا
میں جس کے انتظار میں سو گیا
فلک سے پوچھا
ستاروں سے پوچھا
ان کی خاموشی سے میرا دل سو گیا
رات بھر اس کی روشنی میں اپنی دنیا میں مست ہو جاتا تھا
اور
اس کی خوبصورتی پر نظمیں لکھا کرتا تھا
میں اُسے...............
کبھی چکوری کہتا
کبھی چندا کہتا
پہلی کے چاند میں
وہ مجھے فلک پر
جھلملاتے ستاروں کے درمیان لیٹا ہوا دکھائی دیتا
اور
چودھویں کے چاند میں
فلک پر ایک روشن آئینے کی طرح دکھائی دیتا
پر
نہ جانے.......
آج وہ چاند کہاں کھو گیا
شاعر ایاز اصغر کیف
۸۔ قوسِ قزح
وہ میرا ہمسفر اتنا ہے کہ
جیسے
دھوپ میں میں
بارش کی رِم جھِم سے
آسمان پر
کچھ دیر کے لئے
قوسِ قزح کا اُبھرنا |