|
ممکن ہو جائے, میں صحرا ہو جاؤں
ممکن ہو جائے, میں صحرا ہو جاؤں
اے میرے خُدا
مجھے شوق آرزو عطا کر
لبوں کی جُنبش ہو تو
ہر لفظ تیری تعریف میں ہی نکلے
جو آنکھ اُٹھاؤں تو
ہرسو تیرا ہی جلوہ دیکھوں
میری سوچوں کے سمندر میں
تجھ سے خلوص کی گہرائی پوشیدہ ہو
میری زندگی کا ہر پل
تیری ہی یاد میں بسر ہو
میں ہاتھ اُٹھاؤں دُعا کے لیے جو
میری ہر صدا ہر پُکار
تیری بارگاہ میں قبول ہو
کبھی جو بکھرنے لگوں تو
مجھے تیری ہی آس
تیرا ہی سہارا ہو
یہ سب کُچھ جو میرے پاس ہے
تیری راہ میں لُٹا دوں میں
کوئی دشت ,کوئی صحرا
میرا مسکن ہو
میری آنکھوں کے رتجگے
میرے خوابوں کو چھین کر
تیری عبادت کا ہُنرسِکھا دیں
میرے آنسوؤں میں نمایاں
تُجھ سے عقیدت کا اظہار ہو
یہ ممکن ہو جائے
میں صحرا ہو جاؤں
جہاں سورج کی تپش
ریت کے ہر ذرے کو جلاتی ہے
مگرجس میں پنہاں
ہر پل تیرا ذکر رہتا ہے |