|
آرزو میں اب کٹتی نہیں زندگی
آرزو میں اب کٹتی نہیں زندگی
دل میں کوئی موج دریا نہیں
کیا خاک جیئیں گے و ہ پروانے
تیرے جلوے سے جو آشنا نہیں
عشق کے بھنور میں قید ہوں
کُچھ بھی یا د تیرے سوا نہیں
ہونٹوں پہ تیر ا ذکر رہتا ہے
کوئی بھی گراں سجدہ نہیں
سائے دیوارو ں کے لمبے ہو گئے
وقت ٹھہرے جہاں ایسا گھر ملا نہیں
شور برپا ہے اس دل کی دُنیا میں
ٹوٹ کر بکھر وں میں و ہ صد ا نہیں
اے رب مجھے آشنا کر میری خودی سے
بعد اس کے ہونٹوں پہ کوئی دُعا نہیں |