|
میں نے دنیا کے خزانوں سے لیاکچھ بھی نہیں
میں نے دنیا کے خزانوں سے لیاکچھ بھی نہیں
میرا سرمایہ ترے غم کے سوا کچھ بھی نہیں
آرزو کا شہر جو آباد تھا پہلے کبھی
تیری یادوں کے سوا‘ اس میں رہا کچھ بھی نہیں
کیا فسوں کھینچا‘ کسی نے‘ گلشنِ جاں پر مرے
بجلیاں گرتی رہیں لیکن جلا کچھ بھی نہیں
تلخیء حیات نے مجبور اتنا کردیا
فکرِ فردا کے سوا میں سوچتا کچھ بھی نہیں
کانپ اٹھتا تھا جدائی کے تصور سے مگر!
تو جدا ہو بھی گیا لیکن ہوا کچھ بھی نہیں
میری بربادی میں شامل ہے مری قسمت کا ہاتھ
جا ارے اے ہم نشیں تیری خطا کچھ بھی نہیں
بھول جانے کا کہا تھا اس نے‘ اتنا یاد ہے!
پھر سماعت نے مری آگے سنا کچھ بھی نہیں
عشق کے میداں میں ہی اب اپنا خیمہ گاڑ لیں
عقل کی دہلیز سے یاور ملا کچھ بھی نہیں |