|
وہ میرا تو نہ تھا
وہ میرا تو نہ تھا
کہ اُسے روک لیتے
نہ جانے دیتے
یونہی چل دیا وہ
کچھ کہے‘ سُنے بغیر
مُنہ پھیر لیا اُس نے
اُداس چہرا دیکھے بغیر
وہ میرا تو نہ تھا
کہ اُسے منا لیتے
دل کا آنگن
خوشیوں سے سجا لیتے
اُسکی اک آن پر
اپنی جان بھی لُٹا دیتے
وہ میرا تو نہ تھا
کہ اُسے پاس بٹھاتا
دل کی ہر اک بات بتاتا
وہ رُوٹھ جاتا
میں بار بار مناتا
مگر
وفا راس نہ آئی اس کو
ہماری اک بات بھی نہ بھائی اس کو
کیوں یہ خوشی راس نہ آئی اُس کو
اب کے بار اُسے بے وفا ملیں گے
نہ ہم ہوں گے‘ نہ ہمارے نشاں مِلیں گے
وہ لوٹ آئے گا مری خاطر
سُنو!
پھر ہم زندہ کہاں مِلیں گے
وہ میرا تو نہ تھا |