بہت مصروف ہے بازار کچھ دن سے
خریدار اِس قدر
توبہ
بدلتے موسموں میں جس طرح ہجرت ذدہ پنچھی
کئی جھیلوں پہ آ جائیں
اِسی طرح گھروں سے عورتیں ،بچے سبھی بازار آئے تھے
کئی معصوم بچے ماؤں کی انگلی پکڑ کربھِیڑ میں کھو جانے کے ڈر سے
بہت سہمے ہوئے سے تھے
کئی چیزوں کے بھاؤ ہو رہے تھے گرما گرمی سے
کئی بھالُو ابھی بچوں نے لینے تھے دکانوں سے
کئی گڑیائیں سج دھج کر کھڑی تھیں، منتظر تھیں کہ کوئی آئے
ہمیں لے جائے یاں سے
پھر اچانک۔۔۔۔
ڈھز۔۔۔۔۔۔
ارے یہ کیا۔۔۔۔۔۔خدایا کیا میں زندہ ہُوں ؟؟
دھواں کیسا یہ اٹھتا ہے؟
کہاں ہیں لوگ وہ سارے؟
ابھی سب چند لمحوں پہلے تک تو تھے
یہ شوروغوغا کیسا ہے؟
جھلستی آگ کس نے ہے لگا ڈالی
یہ کن کے جسم اڑتے جا رہے ہیں رائی کی مانند ہر جانب
یہ کن کے چیتھڑے چپکے ہوئے دیوارودَر سے ہیں
ارے!!! یہ نائبِ خالق ہی ہیں سارے ؟؟؟
ارے یہ بولیاں کیسی؟؟؟
یہ کیا تقسیم چلتی ہے یہاں پر
دکھایا جا رہا ہے کیا
عزیز اپنے تلاشے جا رہے ہیں ہر جگہ شاید
یہ سر کس کا قریبی ہے؟
جی میں پہچانتا ہُوں
اُف خدایا۔۔۔۔یہ تو مرا بھائی ہے سر جی
تو یہ لیں
دستخط کر دیں وصولی کے
اب اِس کی ٹانگیں،بازُو ڈھونڈ لیں جا کر
یہاں اس ڈھیر سے بھی دیکھ لیں آکر کہ شاید یَاں سے مل جائیں
وگرنہ ویٹ کر
پاس کی گلیوں سے بھی یہ اطلاع آئی ہے کہ
کچھ دھڑ کسی کی چھت،کسی کی بالکونی اور کسی کے پورچ میں بھی جا گرے ہیں
گئے ہیں ایدھی والے
آ رہے ہوں گے
یہ سر کس کا ہے اے لوگو؟
یہاں ریڑھی لگاتا تھا جی برسوں سے
پکڑ لو اس کو،یہ مشکوک سر ہے
ممکنہ خود کش کا سر لگتا ہے یہ
بلاؤ فوٹو گرافر کو
ذرا تصویر لو اس کی
ذرا نزدیک سے لینا،یہ تِل واضح نظر آئے
صبح کے سارے اخبارات میں تصویر دے ڈالو
جو اس کے بارے معلومات دے گا تو ملے گا دو کڑوڑ اُس کو
اور اس کا نام صیغہ راز میں ہی رکھا جائے گا
مرے موبائل اور دفتر کا نمبر ساتھ لکھ دینا
مرے مولا !!!
ترے بندے
ترے نائب کہاں جائیں
کوئی تو راستہ بتلا،کوئی منزل دکھا ہم کو
کہ دہشت گرد لوگوں سے مِرے مولا بچا ہم کو۔۔