|
اِس دل سے تیری یاد کے ہالے نہیں گئے
اِس دل سے تیری یاد کے ہالے نہیں گئے
تُو تو نہیں ہے تیرے ا جالے نہیں گئے
برسوں سے ایڑیاں ہی رگڑتے رہے ہیں خواب
تب ہی تو میری آنکھ سے چھالے نہیں گئے
کچھ یار ، چند خواہشیں ، تھوڑی سی بے رخی
مٹھی بھر انتظار ، سنبھا لے نہیں گئے
سو بار چھانٹنے کا جتن کر چکا ہوں میں
کچھ لوگ زندگی سے نکالے نہیں گئے |