|
فتویِٰ عشق
شاعرِ محبت پہ ہر شے حلال ہے
روزہِ جاناں سے منکر نہیں ہوتا شاعر
کچھ سکھ سے نہیں اسے لینا
کچھ دکھ پہ نہیں اسے دینا
ہر چیز تک ہے رسائی شاعر کی
کہ شراب پینا اس پہ حلال ہے!
پانچ وقت کی نماز نہیں پڑھتا عاشق
روزہ نہیں رکھتا تہجد نہیں پڑھتا عاشق
کسی بات سے نہیں ڈرتا محبوب پہ ہے مرتا
نہ ٹوٹنے والی نمازِ عشق اس پہ حلال ہے!
وہ جو کرتے ہیں تذکرہ حلال و حرام پہ
وہ جو کرتے ہیں تشہیر سود و سیام پہ
وہ جو کرتے ہیں ثواب و گناہ میں فرق
کیا اُن پہ یہ سب کچھ حلال ہے؟
سب مفتیوں کے فتوےٰ توڑتا ہوں میں
سب پادریوں کے کلیسا توڑتا ہوں میں
سب پنڈتوں کے شُبھم پھوڑتا ہوں میں
کہ عاشق و شاعر پہ سب کچھ حلال ہے!
ہر حرام کو کرتا ہوں حلال خود پہ
ہر حلال کو کرتا ہوں حرام خود پہ
موت تو ہے آنی تو سچ سے کیا گھبرانا
کہ ساقی# محبت و عشق پہ ہر فتویٰ حرام ہے! |