|
چاند نکلے جب اپنی گُفاوں سے
چاند نکلے جب اپنی گُفاوں سے
چاند نکلے جب اپنی گُفاوں سے
لاتا ہے سنگ اپنے یہ آپکا خیال
شب گھنیری میں جانے انجانے میں
اکثر رہتا ہے آپ کا انتظار
آپ سے تو آپکی یادیں ہیں مہرُباں
بِن بُلائے ہی نینوں میں چھلک آتی ہیں
گندُمی رُخسار ہو جاتے ہیں گیلے
دل کا پیمانہ جب بن جائے نم وار
کچی عمر کے سب خواب بھی کچے
آخر کو تو ڈھے ہی جاتے ہیں
پر خواب یہی تو زیست کا حاصل
اس خواب نگر میں ہے کتنا خمار
کہت مئیا یہ وقت ہے مہنگا
کھو دو تو خسارا ہی خسارا ہے
آپ نہ آئے حیران ہیں آنکھیں
اور راہداری میں پھیلی حِنائی مہکار
اِک مُختصر سا عشق تھا باعثِ فخر
وہ بھی نہ مُکمل ہو پایا
اجی سُن لو پری اب عشق نہ کرنا
یہ عشق کر دیتا ہے ہر آن بے قرار |