|
چاہت اور عداوت
چاہت اور عداوت کا معاملہ ہے
جھوٹ اور صداقت کا معاملہ ہے
منصف بھی تیرے حسن کے متلاشی ہیں
ہر جگہ تیری ہی نزاکت کا معاملہ ہے
لیکن
اب انصاف ہو گا
کیونکہ
یہ میری محبت کا معاملہ ہے
گرچہ پہنائی جائیں گی بیڑیاں
وفا کے بدلے
مقید کر دیا جائے گا اندھیروں میں
طلسمِ لہو نچوڑ لیا جائے گا
سماعتوں پہ پہرا بٹھایا جائے گا
مسکراہٹوں کی جگہ اشکوں کی برسات ہوگی
چاندنی جھلملائے گی اندھیری رات ہو گی
میکدہ میرا نصیب ہو گا تیرے بغیر
جام سے جام کی شروعات ہو گی
شیرازہ زندگی کا بکھر جائے گا
گر تجھ سے نہ ملاقات ہوگی
اور میں۔۔۔
پلکوں پہ سجا کہ لاؤں گا تحفہ ِدل جاناں
لبادہ میرے لہو سے رنگ دیا جائے گا
اور
میری روح سے ہر دم آئیگی اک صدا
بے وفا بے وفا |