|
فرصت
جو تم کو ملے فرصت کبھی
تو
مڑ کر دیکھنا اک بار
کہ
کوئی تیرے انتظار میں
ہے سر بسجدہ پڑا ہوا
فقط اسی آس پہ
کاش کہ !
تم آواز دو
لو میں آگئی تیرے واسطے
چھوڑ کر سب راحتیں
چھوڑ کر سب چاہتیں
اب!
سمیٹ لو اپنی آغوش میں
میں رہوں نہ اپنی ہوش میں
نہ کر سکے کوئی اب جدا
مجھ کو دو کوئی ایسی سزا
لیکن !
یہ سب میرا خواب تھا
میری چاہ کا سراب تھا
نہ تم لوٹ کر آسکی
نہ ہی وفا نبھا سکی
اور
تم خوش وخرم اپنے احباب میں
میں اب تک کھویا خواب میں |