|
شاید کبھی وہ پیکر ِ حسن و جمال آئے
شاید کبھی وہ پیکر ِ حسن و جمال آئے
ہم ایسے عاجزوں کا بھی اُس کو خیال آئے
دیکھا ہے جب بھی اُس کو چلمن میں بیٹھے دیکھا
ایسا بھی ہو کبھی کہ وہ پردہ نکال آئے
عاشقی اپنی کرے ہے اُن سے ہی منسوب
پی کے میخانے سے جو بھی مست حال آئے
اس سال بارشوں سے وہ لحد ہوئی خراب
بھیجو کسی کو اُ س پر کچھ خاک ڈال آئے
یہ سحر طلوع نہ ہو گی یہ منتظر ہے شاید
کہ درمیانِ صحر ا نوائے بلال آئے
یہ کسک نہ ختم ہو گی نہ یہ حسرتیں مٹیں گی
کوئی نہیں جو خارِ غمِ دنیا نکال آئے
میرے نام سے نہ جوڑو بے جا کے امتیاز
میری اصل کچھ نہیں ہے بس ایک گہرا راز |