|
منتظر الزیدی کے حوصلے کی نظر
منتظر الزیدی کے حوصلے کی نظر
وہ بیڑیاں
جو قیدیوں کی منتظر پڑی ہیں
وہ تلواریں
جو نکلنا چاہتی ہیں نیام توڑ کر
وہ خوں
جو زخموں سے رستا چلا جاتا ہے
وہ فتح
جو خوں کی ندیوں سے لکھی ہے
منتظر ہے اس حوصلے کی
جو زیدی کو عطا ہوا ہے
تلخ تاریخ غماز ہے
اس حقیقت کی
کہ اس صحرا کی ریت
ابھی ٹھنڈی نہیں ہوئی
شاید پھر دجلہ کی زمیں کو
تلاش ہے اس گھٹا کی
جو ریت کے پیاسے ذروں کو سیراب کرے
جو امید کے ٹمٹماتے چراغوں کو
روشن مثل آفتاب کرے
شاید پھر تاریخ دہرائے اپنے آپ کو
پھر بپا ہو کربلا
عراق کے ریگ زاروں پر
شاید پھر وہی آندھیاں
کمزور چراغوں کو بجھانے چلیں
شاید پھر عرب کی سر زمیں
کسی مصلح کی منتظر ہو
اور شاید
یہ جرات رندانہ
مژدہ ہو
کسی اور صبح کا
جو ابھی طلوع نہیں ہوئی |