|
تیری یادوں سے کہیں دور نکل کر دیکھیں
تیری یادوں سے کہیں دور نکل کر دیکھیں
گویا تپتے ہوئے صحرا میں بھی چل کر دیکھیں
عشق کی آگ میں جل کر یہ کہاں جاتے ہیں
ہم بھی پروانوں سا شمع پہ مچل کر دیکھیں
گرنے والے بھی یہ کہتے ہیں نشانہ بن کر
آؤ پھر سے بتِ کافر کو سنبھل کر دیکھیں
جب سے وہ شخص چلا پیار میں ہے ساتھ مرے
لوگ جتنے بھی مجھے دیکھیں سبھی جل کر دیکھیں
ہاں کریں عہدِ وفا اور بدل جائیں پھر
ہم بھی دنیا کے مزاجوں میں ہی ڈھل کر دیکھیں
آج ہاتھوں کو جلایا کہ ہے ارمان یہ اب
ہم بھی قسمت کی لکیروں کو بدل کر دیکھیں |