|
مشہور کویٴ غم کا فسا نہ نہیں کرتے
مشہور کویٴ غم کا فسا نہ نہیں کرتے
ہم حد سے زیادہ دل دیوانہ نہیں کرتے
وہ کہہ رہے ہیں دل کو دل سے بدل بھی لو
پر ہم اپنا تو کویٴ دوسرا ٹھکانہ نہیں کرتے
جب آنکھیں ہی ہوں سچے جذبوں کی ترجماں
تو باتوں سے کویٴ جھوٹا بہانہ نہیں کرتے
جب سے ہویٴ نیند پابند رنج و غم
ہم آنکھوں میں کویٴ خواب سہانا نہیں کرتے
تو حسن کا خد ا ہے تو تجھے پوجے کویٴ کافر
رضی پتھروں کو خدا ہم تو مانا نہیں کرتے |