پی سی بی کے تین رکنی ٹربیونل نے شعیب اختر کی سزاپانچ سال سے کم کر کے ڈیڑھ سال کر دی ، 70لاکھ روپے جرمانہ عائد ،حسیب احسن ہسپتال میں ہونیکی وجہ سے سماعت کیلئے نہ آسکے فیصلے پر دستخط کر دیئے ، فیصلہ دو ایک کی اکثریت سے ہوا ،شعیب اختر کو فیصلے کیخلاف اپیل کرنے کا حق ہے ،فیصلہ اپنی سمجھ کے مطابق کیا ہے ،جسٹس آفتاب فرخ ،شعیب کی کرکٹ پر پابندی لگانے کے حق میں نہیں تھا وہ پاکستان کیلئے کھیلتا ہے عوام اسے پسند کرتی ہے ،نوید چوہدری:
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔14جون۔2008ء) پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باؤلر شعیب اختر پر 5سالہ پابندی کے کیس کی اپیل کی سماعت کرنیوالے پی سی بی کے تین رکنی ٹربیونل نے جسٹس آفتاب فرخ کی سربراہی میں شعیب اختر کی اپیل کا فیصلہ سناتے ہوئے اسکی پانچ سال کی سزا کو کم کر کے ڈیڑھ سال کر دیا اور اس پر 70لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا جبکہ پی سی بی کو ہدایت کی گئی کہ وہ شعیب اختر کی 60روز کے اندر کونسلنگ ماہر نفسیات سے کرانے کا انتظام کرے ، تین رکنی ٹربیونل کے ایک رکن حسیب احسن ہسپتال میں ہونے کی وجہ سے نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں اپیل کی سماعت کیلئے نہ آسکے تا ہم انہوں نے فیصلے پر اپنے دستخط کر دیئے ، فیصلہ دو ایک کی اکثریت سے ہوا ،جسٹس فرخ آفتاب اور حسیب احسن کی رائے تھی کہ شعیب اختر کی سزا کو ڈیڑھ سال کر دیا جائے جبکہ ٹربیونل کے تیسرے رکن نوید چوہدری کی رائے تھی کہ شعیب کو سزا نہ دی جائے اس پر 2کروڑ کا جرمانہ عائد کر دیا جائے لیکن اکثریت کا فیصلہ مانا گیا ۔ ٹربیونل کے سربراہ جسٹس فرخ آفتاب کا کہنا تھا کہ شعیب اختر اس فیصلے کیخلاف اپیل کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ شعیب اختر تین سال کی کرکٹ مزید کھیل سکتا ہے جس پر ٹیم نے اسے ڈیڑھ سال کی پابندی کی سزا دی اور ڈیڑھ سال اسے کرکٹ کھیلنے کے لئے دیدیا ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے فیصلہ اپنی سمجھ کے مطابق کیا ہے ۔ ٹربیونل کے تیسرے رکن نوید چوہدری کا کہنا تھا کہ میں شعیب کی کرکٹ پر پابندی لگانے کے حق میں نہیں تھا وہ پاکستان کیلئے کھیلتا ہے عوام اسے کھیلتے دیکھنا چاہتی ہے کرکٹ پر پابندی سے اسے تو سزا ملے گی لیکن پاکستان کے تماشائیوں کو بھی سزا ملے گی جو مناسب نہ ہے میں اس پر دو کروڑروپے جرمانہ کرنے کے حق میں تھا ،پی سی بی کے قانون کیمطابق بھی شعیب اختر کو سزا نہیں دی جا سکتی اس لئے میں نے اسکی پانچ سالہ پابندی کی سزا کو ختم کرنے اور شعیب کو دو کروڑ روپے جرمانہ کی سزا کا کہا تھا ۔شعیب اختر کے وکیل عابد منٹو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ابھی تک فیصلے کی کاپی نہیں ملی اس لئے اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا کہ ہم اپیل کرینگے یا نہیں ،ہم نے ڈسپلنری کمیٹی کے فیصلے پر اعتراضات اٹھائے تھے اگر ٹربیونل نے ان اعتراضات کا مناسب جواب نہیں دیا تو ہم ہائیکورٹ میں جانے پر غور کر سکتے ہیں ۔پی سی بی کے وکیل تفضل حسین رضوی کا کہنا ہے کہ پی سی بی اس فیصلے سے مطمئن ہیں ہم اس فیصلے کیخلاف اپیل میں نہیں جائینگے یہ فیصلہ پی سی بی کے حق میں ہوا ہے اور اس فیصلے میں انصاف ہوا ہے ۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے