پانچ سالہ پابندی کے خلاف شعیب اختر کی ایپل کی آخری سماعت 14جون کو ہوگی۔۔ فیصلہ اگلے دوچار روز میں سنا دیں گے،جسٹس (ر) آفتاب فرخ کی میڈیا سے گفتگو:
لاہور(اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک)پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے فاسٹ باؤلر شعیب اختر پر عائد پانچ سالہ پابندی کے خلاف اپیل کی آخری سماعت 14جون ہوگی جبکہ کیس کا فیصلہ اگلے دو سے چار روز میں سنا دیا جائیگا۔گزشتہ روزشعیب اخترکو پابندی سے ایک ماہ کی مہلت دیئے جانے کے بعد پابندی کے خلاف پہلی سماعت کے اختتام پر اپیلٹ ٹریبونل کے سربراہ جسٹس (ر) آفتا ب فرخ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ آج کیس کی سماعت کے دوران اپیلٹ ٹریبونل کے تیسرے رکن ٹیسٹ کرکٹرحسیب احسن طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے شرکت نہیں کرسکے جبکہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی جگہ ٹریبونل میں شامل ہونے والے پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن نوید چوہدری کو کیس کے متعلق دونوں پی سی بی کے وکیل تفصل حسین رضوی اور شعیب اختر کے وکیل عابد حسین منٹو نے تفصیلی بریف کیا گیا اور بعد ازاں دونوں وکلاء نے ٹریبونل کے سامنے اپنے دلائل دئیے ۔سماعت میں شعیب اختر نے بھی شرکت کی ۔ایپلٹ ٹریبونل نے شعیب اختر اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے وکلاء سے مزید کچھ چیزیں اورریکارڈز مانگے ہیں اورکچھ سوالات کیے گئے جن کے جوابات وکلاء اگلی سماعت کے دوران ٹریبونل کے سامنے پیش کرینگے۔جسٹس آفتاب فرخ نے بتایا کہ کہ وہ کیس کو جلدازجلد نمٹانا چاہتے ہیں کیونکہ اس سے نہ صرف ان کے ذاتی کاموں میں مشکلات پیش آرہی ہیں جبکہ دیگرفریقین بھی کیس کا جلدفیصلہ چاہتے ہیں۔انہوں نے واضع کہاکہ وہ کیس کا تفصیلی فیصلہ سنائیں گے ایسا نہیں ہوگا کہ شارٹ آرڈر فوری طور پر سنا دیا جائیگا اور تفصیلی بعد میں آئے گا آفتاب فرخ نے کہاکہ وہ مکمل کوشش کرینگے کہ فیصلہ وقت آنے سے قبل میڈیا میں بریک نہ ہوان کا کہنا تھا کہ میں اپنی ذمہ داری تو دے سکتا ہوں لیکن ٹریبونل کے دیگر اراکین کے بارے میں وہ کچھ نہیں کہہ سکتے ۔انہوں نے کہا کہ ممکن ہے تفصیلی فیصلہ پہلے لکھ لیا جایا اور شعیب اختر کو بری کرنے یا سزا برقرار رکھنے یا پھر سزا میں کمی کے بارے میں جو فیصلہ ہوگا وہ یہ بات اپنے تک محدود رکھ کر ایک ہی دن اعلان کرسکتے ہیں۔ٹریبونل کے نئے رکن نوید چوہدری نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ 14جون کوحتمی نہ سمجھا جائے ممکن ہے کارروائی آگے بھی جاسکتی ہے انہوں نے کہاکہ اگر ٹریبونل کے تیسرے رکن حسیب احسن کچھ سوالات پوچھنا چاہیے تو فیصلہ آنے میں تاخیر بھی ہوسکتی ہے دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے وکیل تفصل حسین رضوی نے کہاکہ کیس کی سماعت وہیں سے شروع ہوئی ہے جہاں پر ختم ہوئی تھی اس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اگر شعیب اختر کی سزاکو کالعدم قرار دیکر ختم کردیا جاتا ہے پی سی بی کورٹ سے رجوع کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں صورتحال کے مطابق فیصلہ کریگا۔کیس کی سماعت کے اختتام پر شعیب اختر اپنے وکیل عابد حسین منٹوکے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کیے بغیر چلے گئے۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے