اعجازوسیم باکھری:
دفاعی چیمپئن سری لنکا نے بھارت کو ایشیا کپ کے فائنل میں لگاتار دوسری مرتبہ شکست دیکر مجموعی طور پر چوتھی مرتبہ ٹورنامنٹ جیت لیاہے ۔نیشنل سٹیڈیم کراچی میں کھیلے گئے فائنل معرکے میں بھارتی بیٹسمین 274رنز کے جواب میں سری لنکن لیگ سپنر منیڈس کی بولنگ کے سامنے بھیگی بلی بنے نظر آئے اور پوری ٹیم 173کے قلیل سکور پر آؤٹ ہوکر100رنزسے شکست کھاگئی۔نیشنل سٹیڈیم کی تاریخ میں پہلی مربتہ کھیلے جانیوالے کسی بڑے ٹورنامنٹ کے فائنل میں بھارتی بیٹسمین یکسر ناکام ثابت ہوئے اور ایک ایک کرکے اپنی وکٹیں گنواتے رہے۔سخت سیکورٹی انتظامات کے باوجود شائقین کی بڑی تعداد نے سٹیڈیم کا رخ کیا اور سری لنکا ٹیم کی بھر پورحوصلہ افزائی کی۔فائنل میچ کے مہمان خصوصی صدر پاکستان پرویز مشرف تھے جوبھارتی ٹیم کے 9کھلاڑیوں کے آؤٹ ہونے کے بعد سٹیڈیم پہنچے اور فاتح ٹیم کو ٹرافی دینے کے ساتھ ساتھ عمد ہ کھیل پیش کرنے والے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے۔اس سے قبل سری لنکا نے جب اپنی بیٹنگ کا آغاز کیا تھا تو سٹار بیٹسمین سنتھ جے سوریا نے حریف باؤلرز کو تلوار کی دھار پر رکھ لیااور محض 79گیندوں پر سنچری داغ کرایک بارپھر اپنے بارے میں ناقدین کی رائے کو غلط قرار دیدیا۔جے سوریا نے 114گیندوں پر 125رنز بنائے ان کی اننگز میں 9چوکے اور پانچ چھکے شامل تھے۔جواب میں بھارتی کپتان دھونی نے اپنی ٹیم کو فتح دلانے کیلئے بھر پورکوشش کی لیکن وکٹ کی دوسری جانب تواتر کے ساتھ وکٹیں گرنے کی وجہ سے وہ اپنی ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکے۔دھونی نے 49رنز بنائے جبکہ اس سے قبل سہواگ نے ابتدائی اوورز میں دھواں داربیٹنگ کی اور اس نے محض 26گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی اس میچ دس چوکے شامل تھے لیکن سپنر مینڈس بھارتی ٹیم کیلئے طوفان ثبوت ہوئے اور 6قیمتی وکٹیں لیکر میچ کا نقشہ ہی بدل دیا۔
پاکستان کی میزبانی میں پہلی مرتبہ کھیلے جانیوالا یہ نواں ایشیا کپ ہے ۔ایک روزہ کرکٹ میں ورلڈکپ کے بعد چیمپئنزٹرافی دوسرا بڑا ایونٹ ہے تاہم ایشیا کپ بھی اپنی طرز کا ایک اہم ایونٹ ہے جس میں ایشیا کی تمام ٹیمیں صف آراء ہوتی ہیں۔اس سے قبل پاکستان کو 1993ء میں ایشیا کپ کی میزبانی کا سونپی گئی تھی تاہم خراب سیاسی اور ملکی حالات کے پیش نظر ایونٹ کو منسوخ کردیا گیا تھا مگر اس بار ایشیا کپ کے کامیاب انعقاد کی بدولت پاکستان کو چیمپئنزٹرافی کی میزبانی ملی ۔
ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کا باقاعدہ آغاز1984کو شارجہ میں ہوا جہاں افتتاحی ٹورنامنٹ پاکستان ،بھارت اور سری لنکا کے درمیان کھیلا گیا ۔ ٹورنامنٹ کے فائنل میں بھارت نے سری لنکاکو شکست دیکر پہلا ایشیا کپ جیتنے کا اعز از حاصل کیا۔اب تک کھیلے گئے 9ایشیا کپ ایونٹس میں بھارت اور سری لنکا چار چار مربتہ ٹورنامنٹ جیتنے کا اعزاز حاصل کرچکے ہیں۔ جبکہ تین مرتبہ بھارتی ٹیم رنراپ رہی ۔پاکستانی ٹیم کا ایشیا کپ میں ریکارڈ زیادہ اچھا نہیں ہے قومی ٹیم اب تک محض ایک بار ہی فائنل جیت سکی ہے جبکہ 1986ء میں کھیلے گئے دوسرے ایشیا کپ میں پاکستان کو فائنل میں میزبان سری لنکا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔دو سال بعد کھیلے گئے تیسرے ایشیا کپ کی میزبانی بنگلہ دیش کو سونپی گئی جہاں پاکستانی ٹیم فائنل میں نہ پہنچ سکی۔ٹورنامنٹ کے فیصلہ کن معرکے میں بھارت نے سری لنکا کو شکست دی۔1990میں کھیلے گئے چوتھے ایشیا کپ میں ایک بار پھر بھارتی ٹیم نے سری لنکاکو فائنل میں شکست دیکر تیسری مرتبہ ٹورنامنٹ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔پاکستان اور بنگلہ دیش ایک بارپھر ایشیا کپ میں ناکام ترین ٹیمیں ثابت ہوئیں۔1993ء میں پاکستان کی میزبانی میں کھیلا جانیوالا ایشیا کپ میں خراب سیاسی اور ملکی حالات کے پیش نظر منسوخ کرنا پڑا اور اگلے ایشیا کپ کی میزبانی ایک بارپھر شارجہ کی حصے میں آئی جہاں پاکستانی ٹیم اس بار بھی کچھ نہ سکی اور فائنل میں سری لنکاکو شکست دیکر بھارت نے ٹورنامنٹ جیتنے کی ہیٹ ٹرک مکمل کی۔1997ء میں کھیلے جانیوالے ایشیا کپ کی میزبانی سری لنکا کو سونپی گئی جہاں میزبان ٹیم نے فائنل میں بھارتی ٹیم کی فتوحات کو بریک لگا کر ٹائٹل جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔2000ء میں کھیلے گئے ساتویں ایشیا کپ کی میزبانی ایک بار پھر بنگلہ دیش کو دی گئی یہ ٹورنامنٹ یکسر پاکستانی ٹیم کا نام رہا۔ٹورنامنٹ کے فائنل میں پاکستان نے دفاعی چیمپئن سری لنکا کو 39رنز سے شکست دیکر ایشیا کپ کی تاریخ میں16برس بعد ٹورنامنٹ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔گزشتہ ایشیا کپ ٹورنامنٹ میں میزبان سری لنکا نے بھارت کو فائنل میں شکست دیکر تیسری بار ٹائٹل جیت تھا اور اس بار بھی ایشیا کپ کے فائنل میں سری لنکا نے بھارت کو 100رنز سے شکست دیکر لگاتار دوسری اور مجموعی طور پر چوتھی بار ٹائٹل جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ٹورنامنٹ پاکستانی ٹیم فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی جبکہ بنگلہ دیش ،ہانگ کانگ اور یواے ای ٹیم کی ٹیمیں بھی متاثر کن کھیل پیش کرنے میں ناکام رہیں۔